شوگر کمیشن کی رپورٹ کے بعد عدالت کا 70 روپے فی کلوگرام چینی فروخت کرنے کا حکم ۔ شوگرملز مالکان اس قیمت پر بیچنے کو تیار ۔
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کابینہ ڈویژن کے نام خط میں کہا ہے کہ شوگر ملز 70 روپے فی کلو چینے دینے کو تیار ہیں۔خط کے متن کے مطابق پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت ملز سے چینی اٹھانے کے لیے اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ گھریلو صارفین کی چینی کی ضروریات 52 لاکھ ٹن جبکہ 2 ہفتے کی چینی کی ضروریات 2 لاکھ ٹن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 25 جون تک 60 ہزار ٹن گھریلو صارفین کی ضروریات کے لیے کافی ہے شوگر ملزعارضی عدالتی حکم کے تحت 70 روپے فی کلو چینی رضاکارانہ دے رہی ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ اگر کمیشن نے عام آدمی کو چینی کی دستیابی کے حوالے سے کچھ نہیں کیا تو پھر کیا کیا؟حکومت کی تشویش کمرشل ایریا تو نہیں ہونا چاہیے عام عوام ہونی چاہیے۔ دو سال پہلے چینی کی قیمت کیا تھی۔مخدوم علی خان نے مو¿قف اختیار کیا کہ کمیشن نے عام عوام تک چینی کی دستیابی کے حوالے سے کچھ نہیں کہا۔ نومبر 2018 میں چینی کی قیمت 53 روہے تھی۔انہوں نے کہا کہ کمیشن نے اپنے ٹی او آر سے باہر جاکر کارروائی کی، معاون خصوصی اور دیگر وزرا کے ذریعے ہمارا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ اگر کمیشن نے عام آدمی کو چینی کی دستیابی کے حوالے سے کچھ نہیں کیا تو پھر کیا کیا؟حکومت کی تشویش کمرشل ایریا تو نہیں ہونا چاہیے عام عوام ہونی چاہیے۔ دو سال پہلے چینی کی قیمت کیا تھی۔مخدوم علی خان نے مو¿قف اختیار کیا کہ کمیشن نے عام عوام تک چینی کی دستیابی کے حوالے سے کچھ نہیں کہا۔ نومبر 2018 میں چینی کی قیمت 53 روہے تھی۔انہوں نے کہا کہ کمیشن نے اپنے ٹی او آر سے باہر جاکر کارروائی کی، معاون خصوصی اور دیگر وزرا کے ذریعے ہمارا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں