اشاعتیں

چین اور انڈیا کے سرحدی تنازع میں تبت کا کیا کردار ہے؟تاریخ کی روشنی میں۔

تصویر
چین اور انڈیا کے درمیان تنازع مغرب میں لداخ سے لے مشرق کی طرف ڈوکلام، نتھولہ اور ریاست اروناچل پردیش کی وادی توانگ تک پھیلا ہوا ہے۔ چین ہمیشہ ہی اروناچل پردیش کے توانگ علاقے پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اسے متنازع علاقہ قرار دیتا ہے۔ کیا تبت چین کا حصہ ہے؟ چین اور تبت کے تعلقات کے بارے میں کئی اہم سوالات اکثر لوگوں کے ذہن میں آتے ہیں۔ جیسے کہ کیا تبت چین کا حصہ ہے؟ چین کے کنٹرول سے پہلے تبت کیسا تھا؟ اس کے بعد کیا کیا بدل گیا؟ تبت کی برطرف حکومت کا کہنا ہے کہ ’اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں کہ تاریخ کے مختلف دور میں تبت مختلف غیر ملکی طاقتوں کے زیر اثر رہا ہے۔ منگولوں، نیپال کے گورکھوں، چین کے منچو شاہی خاندان اور انڈیا پر راج کرنے والی برطانوی حکومت، سبھی کا تبت کی تاریخ میں کردار رہا ہے۔ لیکن تاریخ کے دوسرے حصوں میں ایک ایسا تبت بھی ملتا ہے جس نے اپنے ہمسایوں پر طاقت اور رسوخ کا استعمال کیا اور ان ہمسایوں میں چین بھی شامل تھا۔‘ آج کے دور میں دنیا میں ایسا کوئی ایسا ملک تلاش کرنا مشکل ہے جس پر تاریخ کے کسی دور میں کسی غیر ملکی طاقت کا اثر یا قبضہ نہ رہا ہو۔ تبت کے معاملے میں غیر ملکی اثر...

کورونا وائرس کی وبا کے دنوں میں کیا مویشی منڈی جانا محفوظ ہے؟

تصویر
سندھ میں کورونا وائرس کی روک تھام میں محکمہ صحت کے معاون انڈس ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر باری کا کہنا ہے، جہاں لوگوں کا اجتماع ہو گا وہاں وائرس پھیلنے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’مویشی منڈی میں گندگی ہوتی ہے لوگوں کا بے تحاشہ رش اور ٹریفک جام ہوتا ہے اور ملک بھر سے بیوپاری جانور لے کر آتے ہیں، اس صورتحال میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات اور خدشات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اگر ایس او پیز پر عمل کیا جائے تو کیا یہ محفوظ ہو گا ؟ کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا مشاہدہ اور تجربہ یہ ہی بتاتا ہے کہ لوگ ان ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کرتے۔صوبے میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ ان ایس او پیز کی خلاف ورزی کی واضح مثال ہے۔ یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس جانور سے انسان میں منتقل ہوا ہے لیکن جانوروں میں اس کے پھیلنے کے ابھی شواہد نہیں ملے تاہم لوگوں کو پالتو جانوروں سے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے کیونکہ وہ ان سے پیار کرتے ہوئے ہاتھ پھیرتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالباری کا کہنا تھا کہ قربانی کے جانوروں کو لوگ ہاتھ لگاتے ہیں اگر کوئی کورونا متاثرہ شہری...

بھارت،چین کشیدگی بڑھ گئی،چین کے ساتھ جھڑپ میں بھارتی کرنل اور2 ساتھی مارے گئے

تصویر
  جنگی جنون میں مبتلا بھارت کو چین کے ساتھ کشیدگی مہنگی پڑی لداخ پر جھڑپ کے دوران انڈین فوج کا کرنل اور دو فوجی جوان مارے گئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سرحدی کشیدگی میں مسلسل اضافے کے پیش نظر اس وقت لداخ میں واقع ایک سرحدی چیک پوسٹ پر دونوں ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام مذاکرات کرکے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق انڈین فوجی رات گئے گلوان وادی میں ہونے والی ایک جھڑپ میں مارے گئے۔ بھارتی فوج کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ گلوان وادی میں ایک کارروائی کے دوران ہونے والی پرتشدد جھڑپ میں بھارتی فوج کے تین اہلکار جن میں ایک آفیسر بھی شامل تھا مارے گئے۔ اس وقت دونوں ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام کشیدگی ختم کرنے کے لیے اجلاس میں شریک ہیں۔ بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی خبریں انڈین اور غیر ملکی میڈیا کی جانب سے بھی جاری کی گئی ہیں۔

شوگر کمیشن کی رپورٹ کے بعد عدالت کا 70 روپے فی کلوگرام چینی فروخت کرنے کا حکم ۔ شوگرملز مالکان اس قیمت پر بیچنے کو تیار ۔

تصویر
 پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کابینہ ڈویژن کے نام خط میں کہا ہے کہ شوگر ملز 70 روپے فی کلو چینے دینے کو تیار ہیں۔خط کے متن کے مطابق پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت ملز سے چینی اٹھانے کے لیے اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ گھریلو صارفین کی چینی کی ضروریات 52 لاکھ ٹن جبکہ 2 ہفتے کی چینی کی ضروریات 2 لاکھ ٹن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 25 جون تک 60 ہزار ٹن گھریلو صارفین کی ضروریات کے لیے کافی ہے شوگر ملزعارضی عدالتی حکم کے تحت 70 روپے فی کلو چینی رضاکارانہ دے رہی ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ اگر کمیشن نے عام آدمی کو چینی کی دستیابی کے حوالے سے کچھ نہیں کیا تو پھر کیا کیا؟حکومت کی تشویش کمرشل ایریا تو نہیں ہونا چاہیے عام عوام ہونی چاہیے۔ دو سال پہلے چینی کی قیمت کیا تھی۔مخدوم علی خان نے مو¿قف اختیار کیا کہ کمیشن نے عام عوام تک چینی کی دستیابی کے حوالے سے کچھ نہیں کہا۔ نومبر 2018 میں چینی کی قیمت 53 روہے تھی۔انہوں نے کہا کہ کمیشن نے اپنے ٹی او آر سے باہر جاکر کارروائی کی، معاون خصوصی اور دیگر وزرا کے ذریعے ہمارا ...

کیا آپ کو دوسری مرتبہ کورونا وائرس ہوسکتا ہے؟ وبائی امراض کے ڈاکٹر نے انتہائی اہم بات بتادی ۔

تصویر
 ایک یہ سوال بھی ہر شخص کے ذہن میں موجود ہے کہ آیا کسی شخص کو دوسری بار کورونا وائرس لاحق ہو سکتا ہے؟ اب اس حوالے سے نئی تحقیقات میں سائنسدانوں نے خوشخبری سنا دی ہے۔ فوربز کے مطابق جنوبی کوریا سے چند ہفتے قبل اس حوالے سے ایک مایوس کن خبر آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ کورونا وائرس کے 11صحت مند ہونے والے مریض دوبارہ اس وائرس کا شکار ہو گئے۔ صحت مندی کے بعد ان کے ٹیسٹ منفی آئے اور کچھ دن بعد ان کے ٹیسٹ دوبارہ مثبت آ گئے۔اس خبر سے دنیا بھر میں ایک خوف پھیل گیا کہ لوگ دوسری بار بھی اس موذی وباءکا شکار ہو سکتے ہیں تاہم سائنسدانوں ان 11 مریضوں پر تحقیق شروع کی جس کے نتائج میں اب خوشخبری سنا دی گئی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج میں سائنسدانوں نے بتایا کہ یہ سب لوگ دوسری بار وائرس کا شکار نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کے جسم میں وائرس کا بچا کھچا جینیاتی مواد باقی رہ گیا تھا جس کی وجہ سے ان کے ٹیسٹ ایک بار پھر مثبت آ گئے۔ جب ان لوگوں پر تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ ان کے جسموں میں موجود وائرس کا بچا کھچا جینیاتی مواد نہ تو ان میں دوبارہ بیماری کا سبب بن سکتا تھا اور نہ ہی یہ لوگ آگے دوسرے لوگوں کو وائ...

وزیرریلوے شیخ رشید بھی کوروناکاشکار ہو گئے

تصویر
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطا بق وزیر ےریلوے شیخ رشید نےاپنا کورونا ٹیسٹ کرایا تھا جس کی رپورٹ مثبت آگئی ہےوزیر ریلوے نے دو ہفتے کیلئے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہےترجمان ریلوے کاکہنا ہے کہ وزیر ریلوے میں کورونا کی بظاہر کوئی علامات نہیں تاہم انہوں نے خودکوگھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔شیخ رشید کاکہناہے کہ سات دن بعد دوبارہ ٹیسٹ کراﺅں گا۔