کورونا وائرس کی وبا کے دنوں میں کیا مویشی منڈی جانا محفوظ ہے؟
سندھ میں کورونا وائرس کی روک تھام میں محکمہ صحت کے معاون انڈس ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر باری کا کہنا ہے، جہاں لوگوں کا اجتماع ہو گا وہاں وائرس پھیلنے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مویشی منڈی میں گندگی ہوتی ہے لوگوں کا بے تحاشہ رش اور ٹریفک جام ہوتا ہے اور ملک بھر سے بیوپاری جانور لے کر آتے ہیں، اس صورتحال میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات اور خدشات مزید بڑھ جاتے ہیں۔
اگر ایس او پیز پر عمل کیا جائے تو کیا یہ محفوظ ہو گا ؟ کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا مشاہدہ اور تجربہ یہ ہی بتاتا ہے کہ لوگ ان ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کرتے۔صوبے میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ ان ایس او پیز کی خلاف ورزی کی واضح مثال ہے۔
یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس جانور سے انسان میں منتقل ہوا ہے لیکن جانوروں میں اس کے پھیلنے کے ابھی شواہد نہیں ملے تاہم لوگوں کو پالتو جانوروں سے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے کیونکہ وہ ان سے پیار کرتے ہوئے ہاتھ پھیرتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالباری کا کہنا تھا کہ قربانی کے جانوروں کو لوگ ہاتھ لگاتے ہیں اگر کوئی کورونا متاثرہ شہری کسی جانور کو ہاتھ لگاتا ہے تو وائرس جانور کے کھال پر رہ سکتا ہے جو بھی دوبارہ اس جانور پر ہاتھ لگائے گا تو وہ متاثر ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ عیدالفطر سے قبل بازار، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز کھولنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔عید کے دس روز کے بعد پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
جبکہ ماہرین صحت اور حکومتی حکام ملک میں کورونا کی وبا کے عروج کے حوالے سے جولائی اور اگست کے ماہ کو اہم قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس دوران وبا کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
لہذہ مویشی منڈی میں جانے سے پہلے احتیاطی تدابیر کا مکمل جائزا کر لینا چاہیے۔



تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں